سندھ حکومت کی شادیوں میں مہمانوں کی تعداد محدود کرنے کی پالیسی نے الجھنیں پیدا کردیںکراچی: سندھ حکومت کی جانب سے شادی کی تقریبات میں مہمانوں کی تعداد دو سو تک محدود کرنے کے فیصلے نے عوام میں شدید بے چینی اور پریشانی پھیلا دی ہے۔ یہ فیصلہ حکومت کی کفایت شعاری مہم کے تحت کیا گیا ہے جس میں ایک ڈش کی پابندی بھی شامل ہے۔کراچی میرج ہال اونرز ایسوسی ایشن کے صدر رانا رئیس نے حکومت سے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہمانوں کی تعداد سے توانائی کی بچت کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ لوگ اپنے گھروں میں بجلی اور گیس بند کر کے آتے ہیں۔\n\nوہ خاندان جو مہینوں پہلے دعوت نامے بھیج چکے ہیں اور ہال و کیٹرنگ بک کر چکے ہیں، اب مالی نقصان کے خدشے میں مبتلا ہیں۔ ایک دولہے کے والد کا کہنا تھا کہ وہ آٹھ سو مہمانوں کو دعوت دے چکے ہیں اور اچانک تعداد کم کرنا ناممکن ہے۔\اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے خبردار کیا کہ پولیس اور انتظامیہ اس پابندی کو رشوت کمانے کا ذریعہ بنا سکتی ہے۔”}
