image

رانا ابرار بلا شبہ ایک قدآور صحافی تھے۔ ان کی وفات نے نہ صرف صحافتی حلقوں کو سوگوار کیا بلکہ سرائیکی وسیب کے باشعور افراد اور سرائیکی کاز کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو بھی غمزدہ کر دیا۔


میری رانا ابرار سے کبھی باقاعدہ ملاقات نہیں ہوئی، مگر ایک طرح کی شناسائی ضرور تھی۔ ایک مرتبہ اسلام آباد پریس کلب میں ہم چند گز کے فاصلے پر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے، لیکن نہ جانے کیوں مصافحہ نہ ہو سکا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ توشہ خانہ کیس کے بعد فیس بک پر ہماری بحث چھڑ گئی تھی۔ ان کی توجہ توشہ خانہ سے لی گئی گھڑی پر مرکوز تھی، جبکہ میرا مؤقف یہ تھا کہ گزشتہ 78 سالوں میں لیے گئے تمام تحائف پر ایک جامع اور مفصل رپورٹ سامنے آنی چاہیے۔ اسی اختلاف کی بنیاد پر وہ مجھے “یوتھیا” اور میں انہیں “جیالا” کہہ کر مخاطب کرتا رہا، حالانکہ ہمارا اختلاف محض اصولی نوعیت کا تھا۔
پھر ایک دن فیس بک کے ذریعے اطلاع ملی کہ انہیں دل کا دورہ پڑا ہے اور ہمارے مشترکہ دوست مجاہد بھٹی انہیں ہسپتال منتقل کر چکے ہیں۔ بعد ازاں رانا ابرار کی اپنی پوسٹ بھی سامنے آئی جس میں انہوں نے مجاہد بھٹی کا شکریہ ادا کیا۔ اس دوران محترمہ فرحت فاطمہ بھی ہر ممکن مدد کے لیے نہایت متحرک نظر آئیں اور بڑی حد تک کامیاب بھی رہیں۔ ان کی رانا ابرار کے ساتھ تقریباً 23 سالہ رفاقت تھی۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسلام آباد میں اگر مرد و خواتین میں سے سو فیصد مخلص اور ہر وقت دستیاب لوگ تلاش کیے جائیں تو مجاہد بھٹی اور فرحت فاطمہ ان میں نمایاں ہیں۔ یہ دونوں درویش صفت انسان ہیں، جن کے لیے موٹر سائیکل، پبلک ٹرانسپورٹ، رکشہ یا ٹیکسی میں سفر کرنا کوئی عار نہیں۔ ان کی ترجیح ہمیشہ بروقت پہنچنا ہوتی ہے
مجاہد بھٹی نے پہلے دن سے رانا ابرار کو ہسپتال پہنچایا اور دن رات ان کے ساتھ رہے۔ دوستوں کو اطلاع دینا، ہسپتال بلانا، علاج معالجے کے انتظامات کرنا—وہ ہر ذمہ داری ایک سچے دوست کی طرح نبھاتے رہے۔ اگرچہ رانا ابرار کا تعلق فاضل پور سے تھا اور مجاہد بھٹی ملتان سے، اور دونوں کے درمیان اختلافِ رائے بھی موجود تھا، مگر بیماری کے وقت مجاہد بھٹی نے وہ مثال قائم کی جو آج کل سگے بھائی بھی کم ہی پیش کرتے ہیں۔
وہ ایک مجاہد کی طرح رانا ابرار کے بستر کے پاس ڈٹے رہے، ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق ہر ضرورت پوری کرتے رہے۔ لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔ جب رانا ابرار کا وقت آیا تو مجاہد بھٹی ان کی میت اسلام آباد سے فاضل پور لے کر روانہ ہوئے، اور وہاں یہ بھی سننے میں آیا کہ انہوں نے تقریباً چار کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کر کے میت کو قبرستان تک پہنچایا۔
میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجاہد بھٹی میرا بھی دوست ہے، اور مجھے اس پر پہلے سے زیادہ فخر محسوس ہوتا ہے۔ میرے نزدیک ہر انسان کے پاس ایک مجاہد بھٹی جیسا دوست ہونا چاہیے—جو مشکل وقت میں ساتھ کھڑا ہو۔ ایک خودغرض دولت مند دوست سے بہتر وہ نادار دوست ہے جو آپ کی میت کو کاندھا دے کر قبر تک ساتھ جائے۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ رانا ابرار کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ جہاں ہم سب ان کی وفات پر غمگین ہیں، وہیں ہمیں مجاہد بھٹی کی نبھائی گئی دوستی کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے، تاکہ ایسے مخلص رشتوں کا حوصلہ بلند ہو۔