دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں کمزوری کے ابتدائی آثار، لین دین میں 49 فیصد گراوٹ
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے تقریباً تین ہفتے بعد دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں کمزوری کے ابتدائی آثار نظر آنے لگے ہیں۔ گولڈمین سیکس کے تجزیہ کاروں کے مطابق مارچ کے پہلے 12 دنوں میں متحدہ عرب امارات میں رئیل اسٹیٹ لین دین کا حجم سال بہ سال 37 فیصد اور ماہ بہ ماہ 49 فیصد کم ہو گیا ہے۔ کچھ پراپرٹیز پر 12 سے 15 فیصد تک رعایت دی جا رہی ہے، جبکہ برج خلیفہ کے قریب ایک مکان 735,000 ڈالر سے کم ہو کر 650,000 ڈالر میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔ ایمار پراپرٹیز کے حصص میں جنگ کے آغاز سے اب تک 26 فیصد سے زیادہ کمی آ چکی ہے۔ سٹی بینک کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جنگ سے دبئی کی آبادی میں اضافے کی توقعات کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے اور 2028 تک پراپرٹی قیمتوں میں سالانہ 7 فیصد کمی ممکن ہے۔ تاہم مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ لین دین مکمل طور پر نہیں رکا اور کچھ سرمایہ کار سستی پراپرٹیز خریدنے کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔
